تحریر:
مریم بلوچ

انسان انسانیت اور مقصد حیات۔جس قدر جدا ہیں اس سے کہیں بڑھ کر ان کا آپس میں تعلق ہے ۔باغ میں جو پھول کھلتا ہے ایسے نہیں کھلتا۔ تند خو ہوائوں کو جھیلتا،کانٹوں سے بچتا حالات سے سمجھوتے کرتا یے پھر کہیں جا کر اس کا وجود دوسروں کو مہکاتا ہے۔
اس کائنات میں موجود ہے شئے اپنا ایک وجود رکھتی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ تخیر وتبدل کا شکار ہوتا ہے۔ ایک قدم اٹھاتا ہے تو اگلا مرحلہ اس سے بھی کڑا ہوتا ہے۔ مگر کیا وہ چلنا چھوڑ دے..!! جو مسائل اسے آج درپیش ہیں وہ ان کی پیچھے سب دائو پہ لگادے..!!! مشکلات سے نکلنا بہتر یا اس کی وجہ سے ترک مشن کرنا مناسب۔۔!!
علامہ محمد اقبال صاحب نے اپنے شعر میں کیا خوش اسلوبی سے بیان کیا:-
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
وقت کبھی نہیں تھمتا اور وقت کے ساتھ ساتھ چلنے کے ہنر سے بھی ہر فرد واقف نہیں۔ جس دور میں ہم سفر کر رہے ہیں یہاں کبھی بھی کوئی آپ کو منظر سے نیچے پھینک سکتا ہے، کوئی بھی پل بھر میں آپ کا وجود ضم کر سکتا ہے اس وقت جب آپ صرف اسی زمان و مکاں کے بارے میں سوچ رہے ہونگے۔
خدارا۔۔!!
خود کو رواں دواں رکھیں۔ ہر مشکل کا ڈٹ کر سامنا کریں ، کسی کے چھوڑ جانے کو،کسی کے مل جانے کو، کسی عارضی خوشی کو ،کسی عارضی غم کو مقصد زندگی سمجھنا چھوڑ دیں۔ وگرنہ آپ کا وجود کہیں کھو جائے گا۔ اس وقت دن کے اجالوں میں بھی اپنا آپ نہ ڈھونڈھ سکو گے۔ وہ قوم بنو جو اس شب وروز کو روشن اور مستقبل کو سنہری کردے۔ وہ نواجوان بنو کی جن کا:-
قلم مقصد سے اُٹھتا ہے زبان رستہ دکھاتی ہے
